سنن أبي داود حدیث نمبر: 1093
Sunan Abi Dawud 1093
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
230: باب الْخُطْبَةِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1093]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں (۵۰) جمعے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (862)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2156)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 32 (1416)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1105)، مسند احمد (5/89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107)، سنن الدارمی/الصلاة 199(1598) (حسن)