سنن أبي داود حدیث نمبر: 1091
Sunan Abi Dawud 1091
کتاب #--: ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
228: باب الإِمَامِ يُكَلِّمُ الرَّجُلَ فِي خُطْبَتِهِ
باب: امام کا خطبہ کے دوران کسی آدمی سے بات کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: " اجْلِسُوا" فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، (یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں ”حسن“ سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو) [سنن ابي داود/حدیث: 1091]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1418) ¤ أخرجه الحاكم (1/283، 284 وسنده قوي) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح محمولة علي السماع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2464) (صحیح)