📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كِتَاب الْخَاتَمِ

کتاب: انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل

کتاب #43 • کل احادیث: 26
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی بنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4214]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5872)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 47 (5868)،50 (5872)، 52 (5875)، 54 (5877)، (تحفة الأشراف: 1163، 1185، 1256، 1368)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، الاستئذان (2718)، سنن النسائی/الزینة سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، 41 (3645)، مسند احمد (3/161، 170، 181، 198، 209، 223) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ، فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ.
اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4215]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4214)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1185) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4216]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5868) صحيح مسلم (2094)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ اللباس 47 (5868)، صحیح مسلم/ اللباس 12 (2012)، سنن الترمذی/ اللباس 14 (1739)، سنن النسائی/ الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3641)، 41 (3646)، (تحفة الأشراف: 1554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/209، 225) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ كُلُّهُ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4217]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه البخاري (5870) من حديث حميد عن أنس به وصرح بالسماع
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 15 (1740)، الشمائل 11 (84)، سنن النسائی/الزینة 45 (5203)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، (تحفة الأشراف: 662)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4218]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5866) صحيح مسلم (2091)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 45 (5866)، الأیمان والنذور 6 (6651)، الاعتصام 4 (7298)، (تحفة الأشراف: 7832)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/الشمائل 11 (84)، اللباس 16 (1741)، سنن النسائی/الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4219]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2091)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ اللباس 12 (2091)، سنن الترمذی/ الشمائل (101)، سنن النسائی/ الزینة من المجتبی 26 (5290)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3639)، 41 (3645)، (تحفة الأشراف: 7599) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْخَبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَاتَّخَذَ عُثْمَانُ خَاتَمًا وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ أَوْ يَتَخَتَّمُ بِهِ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4220]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد منكر المتن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (5220 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 51 (5220)، (تحفة الأشراف: 8450)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 46 (5866)، صحیح مسلم/اللباس 12 (5476)، حم(2/22) (ضعیف الإسناد ومنکر المتن)
2: باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی نہ پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ: " رَأَى فِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، فَصَنَعَ النَّاسُ، فَلَبِسُوا وَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَرَحَ النَّاسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَشُعَيْبٌ، وَابْنُ مُسَافِرٍ كُلُّهُمْ قَالَ: مِنْ وَرِقٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4221]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2094) صحيح مسلم (5868) ¤ وانظر الحديث السابق (4216)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 46 (5868)، صحیح مسلم/اللباس والزینة من المجتبی 27 (5293)، (تحفة الأشراف: 1475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/160، 223، 225) (صحیح)
3: باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ
باب: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ أَوْ غَيْرَ مَحَلِّهِ أَوْ عَنْ مَحَلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: انْفَرَدَ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم [سنن ابي داود/حدیث: 4222]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں اکھیڑنے یا ان میں کالا خضاب لگانے کو۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (5091) ¤ عبد الرحمٰن بن حرملة صدوق و ثقه الجمھور ولكن في سماعه من عبد اللّٰه بن مسعود رضي اللّٰه عنه نظر فالخبر معلول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 17 (5103)، (تحفة الأشراف: 9355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/380، 397، 439) (منکر) (اس کے رواة قاسم اور عبدالرحمن دونوں لین الحدیث ہیں)
4: باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ
باب: لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ السُّلَمِيِّ الْمَرْوَزِيِّ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ، فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ، فَطَرَحَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا"، وَلَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يَقُلْ الْحَسَنُ السُّلَمِيَّ الْمَرْوَزِيَّ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ پتیل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4223]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوتا ہے اگر اس کے برابر ہو گی تو بھاری اور بد وضع ہو گی یا مردوں کے لئے اس سے زیادہ چاندی کا استعمال درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4396) ¤ رواه النسائي (5198 وسنده حسن) وله شاهد عند مسدد في مسنده، انظر اتحاف الخيرة للبوصيري (6/ 112 ح 5580 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 43 (1785)، سنن النسائی/الزینة 44 (5198)، (تحفة الأشراف: 1982)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/359) (ضعیف) (ابوطیبہ عبداللہ بن مسلم کثیرالوہم راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، وَجَدُّهُ مِنْ قِبَلِ أُمِهِ أَبُو ذُبَابٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِهِ، قَالَ: وَكَانَ الْمُعَيْقِيبُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4224]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (5208 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 47 (5208)، (تحفة الأشراف: 11486) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهِدَايَةِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ، قَالَ: وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ لِلسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى شَكَّ عَاصِمٌ، وَنَهَانِي عَنِ الْقَسِّيَّةِ وَالْمِيثَرَةِ"، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْنَا لِعَلِيٍّ: مَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ، أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ: وَالْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں (عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج (چکوترہ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا (بستر) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4225]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2078 بعد ح2095)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 16 (2087)، سنن الترمذی/اللباس 44 (1786)، سنن النسائی/الزینة 50 (5214)، الزینة من المجتبی 25 (5288، 5289)، سنن ابن ماجہ/اللباس 43 (3648)، (تحفة الأشراف: 10318)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/88، 134، 138) (صحیح)
5: باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ
باب: انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَرِيكٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4226]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4392) ¤ أخرجه النسائي (5206 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 12 (90)، سنن النسائی/الزینة 46 (5206)، (تحفة الأشراف: 10180) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، وَأُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ فِي يَمِينِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4227]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ في يمينه
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف / شاذ ¤ ابن أبي رواد،خالفه أسامة بن زيد (مسلم: 2091) وابن إسحاق في متن الحديث وھو المحفوظ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7766) (شاذ) (محفوظ اور صحیح دائیں ہاتھ میں پہننا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَدِهِ الْيُسْرَى".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4228]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7766) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَاتَمًا فِي خِنْصَرِهِ الْيُمْنَى، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ هَكَذَا وَجَعَلَ فَصَّهُ عَلَى ظَهْرِهَا، قَالَ: وَلَا يَخَالُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِلَّا قَدْ كَانَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ كَذَلِكَ".
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا: یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی انگوٹھی ایسا ہی پہنی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4229]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (1742 وسنده حسن، وحسنه البخاري)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 16 (1742)، (تحفة الأشراف: 5686) (حسن صحیح)
6: باب مَا جَاءَ فِي الْجَلاَجِلِ
باب: پیروں میں گھونگھرو پہننا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، " أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ، فَقَطَعَهَا عُمَرُ ثُمّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانًا".
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4230]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ وقال المنذري: ”ومولاة لھم مجهولة،وعامر لم يدرك عمر بن الخطاب‘‘ (عون المعبود 148/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10681) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ، فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلْنَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا، وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ".
عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھونگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4231]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ بنانة: لا تعرف (تق: 8546) وابن جريج مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/242، 243) (حسن)
7: باب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ
باب: سونے سے دانت بندھوانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، " أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ".
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4232]
💡 وضاحت:
۱؎: بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا بن الا ثیر)
۲؎: اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہو گا، اسی لئے دانت بندھوانے کا باب باندھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4400)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 31 (1770)، سنن النسائی/الزینة 41 (5164)، (تحفة الأشراف: 8995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/342، 5/23) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ لِأَبِي الْأَشْهَبِ: أَدْرَكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یزید کہتے ہیں میں نے ابواشہب سے پوچھا: عبدالرحمٰن بن طرفہ نے اپنے دادا عرفجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں (پایا ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4233]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (4232)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9895) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَرْفَجَةَ بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4234]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (4232)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (4232)، (تحفة الأشراف: 9895) (حسن)
8: باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَن أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ ابْنَةَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ: تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: بیٹی! اسے تو پہن لے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4235]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (3644 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس40 (3644)، (تحفة الأشراف: 16178)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/101، 119) (حسن الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4236]
💡 وضاحت:
۱؎: طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4401)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/334، 378) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
حذیفہ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! کیا زیور بنانے کے لیے تمہیں چاندی نہیں ملتی، سنو! تم میں جو عورت بھی سونے کا زیور پہنے گی تو اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4237]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (5140،5141) ¤ امرأة ربعي مقبولة (تقريب التهذيب: 8795) أي:مجهولة الحال،اسم أخت حذيفة بن اليمان: فاطمة / رضي اللّٰه عنھما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 39 (5140)، (تحفة الأشراف: 18043، 18386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/455، 357، 358، 369)، سنن الدارمی/الاستئذان 17 (2687) (ضعیف) (ربعی کی اہلیہ مبہم ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن اگر صحابیہ ہیں تو کوئی حرج نہیں ورنہ تابعیہ ہونے کی صورت میں وہ بھی مبہم ہوئیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4238]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (5142) ¤ محمود بن عمر و وثقه ابن حبان وحده وجھله الذھبي وغيره وضعفه ابن حزم وھو مجهول الحال كما في التحرير (6514) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 39 (5140)، (تحفة الأشراف: 15776)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/455، 457،460) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيًانَ: " أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ رُكُوبِ النِّمَارِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَلْقَ مُعَاوِيَةَ.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر جب «مقطّع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوقلابہ کی ملاقات معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4239]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رخصت عورتوں کے لئے ہے مردوں کے لئے سونا مطلقا حرام ہے چاہے کم ہو یا زیادہ،عورتوں کے لئے جنس سونا حرام نہیں، سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لئے بھی درست نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4395) ¤ وله شاھد عند النسائي (5162 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 40 (5152)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 93، 95، 98، 99) (صحیح)
← پچھلی کتاب #42 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #44 →