شمائل ترمذی حدیث نمبر: 93
Shamail al-Tirmidhi 93
کتاب #12: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا بیان
8: بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی بئر اریس میں گر گئی
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَكَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، وَيَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ نَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رہی، پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آ گئی یہاں تک کہ اریس کے کنویں میں جا گری، اس کا نقش «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ» تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 93]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح بخاري (5873)، صحيح مسلم (2091)