📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگوانے کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کو اجرت دی
عربی:
اردو:
3: بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کو اجرت دی
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
امام شعبی، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اجرت دی۔ اگر یہ حرام ہوتی تو آپ سینگی لگانے والے کو اجرت نہ دیتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 361]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : اس روایت کی سند جابر جعفی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے اور ایک دوسری علتِ قادحہ بھی ہے، لیکن صحیح بخاری (1835) اور صحیح مسلم (1202) میں اس کے شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ حسن ہے۔ واللہ اعلم
شمائل ترمذی • حدیث #361
359 360 361 362 363
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ