شمائل ترمذی حدیث نمبر: 359
Shamail al-Tirmidhi 359
کتاب #50: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگوانے کا بیان
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سینگی بہترین علاج ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ: «إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتَمْ بِهِ الْحِجَامَةُ» ، أَوْ «إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ»
حمید فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگانے والا ابوطیبہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم فرمایا اور اس کے آقا سے بات بھی کی (جس کی وجہ سے) انہوں نے اس کا کچھ ٹیکس کم کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگوانا تمہارا بہترین علاج ہے“ یا یہ فرمایا: ”تمہاری بہترین دوائی سینگی لگوانا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 359]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 1278، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (1577) عن على بن حجر، صحيح بخاري (5696) من حديث حميدالطويل به.