شمائل ترمذی حدیث نمبر: 260
Shamail al-Tirmidhi 260
کتاب #40: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا بیان
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبادت کی وجہ سے قدم مبارک پر ورم آ جانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک متورم ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا آپ اتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے لیے اگلی اور پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے پاک ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 260]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 412، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (819) عن قتيبه به، صحيح مسلم (1130)