📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا بیان

کتاب #40 • کل احادیث: 27
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
عبادت کی وجہ سے قدم مبارک پر ورم آ جانا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک متورم ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا آپ اتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے لیے اگلی اور پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے پاک ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 260]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 412، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (819) عن قتيبه به، صحيح مسلم (1130)
کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک متورم ہو جاتے۔ تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ (اتنی مشقت کے ساتھ) ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ کو تو یہ نوید مل چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 261]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح ابن خزيمه (1184)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ يُصَلِّي حَتَّى تَنْتَفِخَ قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں قدم مبارک سوج جاتے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ (اتنی مشقت کے ساتھ) ایسا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [شمائل ترمذي/حدیث: 262]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ابن ماجه (1420) اس سند میں اگرچہ سلمان بن مہران الاعمش ثقہ مدلس ہیں اور ابوصالح سے بھی ان کی معنعن روایت مشکوک ہوتی ہے، لیکن یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔ مثلاً دیکھئے حدیث سابق: 260
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز عبادت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ: «كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ، فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ»
اسود بن یزید سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں سو جاتے تھے۔ پھر اٹھ کر قیام کرتے اور سحری کرتے اور سحری کے قریب وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر تشریف لاتے اگر حاجت ہوتی تو اپنے گھر والوں کے پاس جاتے، پھر جب اذان (صبح) سنتے تو تیزی سے اٹھ پڑتے، اگر جنبی ہوتے تو اپنے بدن پر پانی بہاتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لیے چلے جاتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 263]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح بخاري (1146)، صحيح مسلم (739)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حصول دین کے لیے ذوق و شوق
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ: «فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: " فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ - قَالَ مَعْنٌ: سِتَّ مَرَّاتٍ - ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ ایک رات ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سوئے۔ اور وہ ان کی خالہ ہیں، فرماتے ہیں: میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتی کہ جب نصف رات ہوئی یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ اپنے چہرے سے نیند دور کرنے لگے اور سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف اٹھے اس سے اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طرف کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیں ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھا پھر میرا دائیں کان پکڑ کر مروڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ روای معن کہتے ہیں میں چھ مرتبہ (دو دو رکعتیں پڑھیں) پھر وتر پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے حتی کہ مؤذن آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں پھر آپ (مسجد کی طرف) نکلے اور نماز فجر پڑھائی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 264]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (صحيح بخاري: 183)، صحيح مسلم (763)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 121/1 . 112 ح264، رواية ابن القاسم: 193)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل تیرہ رکعت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ (13) رکعت پڑھا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 265]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 442 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (1138)، صحيح مسلم (764)
جو رات کو نماز نہ پڑھ سکے اس کی قضاء کیسے کرے ؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ، أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی رات کو نماز نہ پڑھ سکتے، آپ کو نیند نے روک لیا ہوتا یا آنکھوں پر نیند غالب آ گئی ہوتی تو آپ دن کو بارہ رکعت پڑھ لیتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 266]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 445 وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (746)
تہجد کی ابتداء دو ہلکی پھلکی رکعتوں سے کی جائے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک رات کو قیام کرے تو دو ہلکی پھلکی رکعتیں شروع میں پڑھے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 267]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : صحيح مسلم (768)
تیرہ رکعت قیام اللیل کی دوسری روایت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ، أَوْ فُسْطَاطَهُ «فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، طَوِيلَتَيْنِ، طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دَونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دل میں یہ بات ٹھان لی کہ آج رات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا، تو میں نے آپ کی دہلیز یا خیمہ پر ٹیک لگا لی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی لمبی پڑھیں، پھر ان سے کم لمبی دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان سے کم لمبی دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان سے کم لمبی دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان سے کم لمبی دو رکعتیں اور پڑھیں پھر وتر پڑھا تو یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 268]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح مسلم (765)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 122/1 ح265، رواية ابن القاسم: 312)
رمضان اور غیر رمضان میں تعداد رکعات ؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَزِيدَ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا لَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا لَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي»
سعید بن ابی سعدی مقبری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے خبر دی کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان المبارک میں (رات کی) نماز کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے تو ان کی حسن ادائیگی اور طوالت قیام کے بارے میں سوال ہی نہ کر (کہ بہت اچھے طریقے اور لمبی قرات کے ساتھ پڑھتے تھے) پھر تین رکعتیں (وتر) پڑھتے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 269]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 439 وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (2013)، صحيح مسلم (738)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 120/1 ح262، رواية ابن القاسم: 417)
دائیں کروٹ لیٹنا ، تہجد پڑھ کر یا فجر کی سنتیں پڑھ کر ؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت نماز ادا فرماتے جن میں سے ایک وتر ہوتا پھر جب آپ فارغ ہوتے تو اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 270]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 440)، موطأ امام مالك (روا ية يحييٰ 120/1 ح261، رواية ابن القاسم: 35) امام زہری کے سماع کی تصریح صحیح ابن حبان (الاحسان: 2422، دوسرا نسخہ: 2431) میں موجود ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، نَحْوَهُ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، نَحْوَهُ
امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہمیں ابن ابی عمر نے معن سے اور انہیں امام مالک نے امام ابن شہاب سے اسی کی مثل روایت کی ہے۔ نیز ہمیں قتیبہ نے امام مالک سے خبر دی، ان کو ابن شہاب نے اسی طرح خبر دی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 271]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 441)، صحيح مسلم (736)
نو رکعت قیام اللیل کی ایک روایت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو (9) رکعت نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 272]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 443، وقال: حسن غريب)، سنن ابن ماجه (1360)، سنن نسائي (263/3 ح1726)، صحيح ابن حبان (2606) اس روایت کی سند میں سلیمان بن مہران الاعمش اور ابراہیم بن یزید النخعی کا عنعنہ ہے، لیکن صحیح مسلم (730) وغیرہ میں اس کے شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
نو رکعت قیام اللیل کی ایک اور روایت
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَهُ
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں محمود بن غیلان نے، ان کو یحییٰ بن آدم نے، انہیں سفیان ثوری نے اعمش سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 273]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 443، وقال: حسن غريب)، سنن ابن ماجه (1360)، سنن نسائي (263/3 ح1726)، صحيح ابن حبان (2606) اس روایت کی سند میں سلیمان بن مہران الاعمش اور ابراہیم بن یزید النخعی کا عنعنہ ہے، لیکن صحیح مسلم (730) وغیرہ میں اس کے شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
نماز تہجد کی دعائیں اور التجائیں
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَانَ مَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» حَتَّى قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ «شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِي الْمَائِدَةِ وَالْأَنْعَامِ» قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ"
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے، وہ حکومت، طاقت، بڑائی اور عظمت والا ہے۔“ فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا اور رکوع بھی قیام کی طرح طویل تھا۔ رکوع میں «سبحان ربي العظيم، سبحان ربي العظيم» پڑھتے تھے، پھر سر مبارک رکوع سے اٹھایا (اور قومہ کیا) اور قیام بھی رکوع کی طرح تھا اور اس میں «لربي الحمد، لربي الحمد» پڑھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ بھی قیام کی طرح طویل تھا اور اس میں «سبحان ربي الأعلى، سبحان ربي الأعلى» پڑھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر مبارک اٹھایا تو آپ دو سجدوں کے درمیان تقریباً سجدہ کے برابر بیٹھے اور «رب اغفر لي، رب اغفر لي» پڑھتے رہے۔ حتی کہ آپ نے سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ یا سورۃ الأنعام پڑھی۔ راوی حدیث شعبہ کو شک ہوا ہے کہ آپ نے سورۃ المائدہ پڑھی یا سورۃ الأنعام پڑھی تھی۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ (سند میں آنے والے) ابوحمزہ کا نام طلحہ بن زید ہے اور ابوحمزہ الضبعی کا نام نصر بن عمران ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 274]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ابي داود (874)، سنن نسائي (1070) فائدہ: اس روایت میں رجل من بني عبس سے مراد صلہ بن زفر (ثقہ راوی) ہیں۔ دیکھئے سنن ابن ماجہ (797) اور مسند الطیالسی (416) لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پوری رات ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات قرآن مجید کی صرف ایک آیت ہی نماز میں پڑھتے رہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 275]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي 448، وقال: حسن غريب من هذا الوجه)، سنن ابن ماجه (1350)، سنن نسائي (177/2 ح1011) میں اس حدیث کا ایک حسن لذاتہ شاہد بھی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کا قیام
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ» قِيلَ لَهُ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: «هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ وَأَدَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا حتیٰ کہ میں نے برا ارادہ کر لیا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے کیا برا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دوں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 276]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح بخاري (1135)، صحيح مسلم (773)
روایت حدیث میں لفظ «نحوه» کی بحث
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَهُ
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سفیان بن وکیع نے، ان کو جریر نے اعمش سے مذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت کی ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 277]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح بخاري (1135)، صحيح مسلم (773)
رات کی نماز بیٹھ کر پڑھنا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرات بھی بیٹھ کر فرماتے، پھر جب قرات سے اندازاً تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر باقی قرات کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا فرماتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 278]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 374، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (1119)، صحيح مسلم (731)
رات کے طویل حصے میں نوافل کھڑے ہو کر پڑھنا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ جَالِسٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ جَالِسٌ»
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی رات کا طویل حصہ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرات کھڑے ہو کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی اسی حالت میں کرتے اور جب بیٹھ کر قرات کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھے ہوئے کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 279]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 375، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (730)
نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا»
زوجہ رسول ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) نفلی نماز بیٹھ کر ادا فرماتے۔ آپ سورت کی قرات ٹھہر ٹھہر کر فرماتے حتیٰ کہ وہ سورت اپنے سے لمبی سورت سے بڑھ جاتی تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 280]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (سنن ترمذي: 373، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (733)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 137/1 ح 307، رواية ابن القاسم: 7)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں اکثر بیٹھ کر نوافل پڑھتے تھے
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے آخری ایام میں) وفات سے قبل نفلی نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 281]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح مسلم (732)
سنن رواتب کی تعداد
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) ظہر سے قبل دو رکعت اور ظہر کے بعد بھی دو رکعت نماز ادا کی اور دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ادا کیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 282]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي: 425، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (433 من حديث ايوب السختياني)، مسند احمد (6/2 عن اسماعيل بن ابراهيم)، صحيح ابن خزيمه (1197، عن احمد بن منيع)، وللحديث طريق آخر عند مسلم فى صيحه (729)
نماز صبح کی سنتیں مختصر پڑھنا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَيُنَادِي الْمُنَادِي» قَالَ أَيُّوبُ: " وَأُرَاهُ قَالَ: خَفِيفَتَيْنِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب فجر طلوع ہو جاتی اور مؤذن اذان کہتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز ادا فرماتے۔ راوی ایوب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے «حفيفتين» بھی کہا، یعنی ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 283]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح مسلم (723) اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری سند کے ساتھ امام نافع عن ابن عمر عن حفصہ رضی اللہ عنہما۔۔۔ بیان کیا ہے۔
سنت مؤکدہ آٹھ رکعت (بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما )
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِرَكْعَتَيِ الْغَدَاةِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعتیں یاد رکھیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے (ام المؤمنین سیدہ) حفصہ رضی اللہ عنہا نے صبح کی دو رکعتیں بیان کی ہیں جب کہ میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خیال نہیں کرتا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 284]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنده ضعيف اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی مروان بن معاویہ الفزاری مدلس تھے۔ [طبقات المدلسين 105/3 ] اور یہ سند عن سے ہے۔ اس روایت کا پہلا حصہ (دو رکعتیں عشاء کے بعد تک) سابقہ حدیث (282) کی وجہ سے صحیح ہے اور دوسرا حصہ ”حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دو رکعتوں کے بارے میں بتایا“ بھی سابق حدیث (283) کی رُو سے صحیح ہے۔ آخری حصہ ”میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں دیکھا تھا“ محل نظر ہے اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں ایسے وقت میں پڑھتے تھے جب میں آپ کے پاس نہیں جاتا تھا۔ [ديكهئے ح 1173 ]
سنت مؤکدہ دس رکعت (بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا )
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَبْلَ الْفَجْرِ ثِنْتَيْنِ»
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے دو رکعت، ظہر کے بعد دو رکعت، نماز مغرب کے بعد دو رکعت، عشاء کے بعد دو رکعت اور نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 285]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : دیکھئے حدیث سابق: 279
سنت مؤکدہ چودہ رکعت (بروایت علی رضی اللہ عنہ )
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يَقُولُ: سَأَلْنَا عَلِيًّا، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَقُلْنَا: مِنْ أَطَاقَ ذَلِكَ مِنَّا صَلَّى، فَقَالَ: «كَانَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ»
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دن کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔ ہم نے کہا: جو ہم میں سے اس کی طاقت رکھے گا، پڑھ لے گا (آپ بتائیں تو سہی)۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورج مشرق میں جب ایسے ہوتا جیسا کہ عصر کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز ادا فرماتے، اور جب سورج مشرق میں ایسے ہوتا جیسا کہ ظہر کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے تو چار رکعتیں پڑھتے، اسی طرح عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، ہر دو رکعت میں مقرب فرشتوں، نبیوں ان کے پیروکار ایمانداروں اور عام مسلمانوں پر سلام سے فصل و فرق کرتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 286]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج: سنده حسن : (سنن ترمذي: 599، وقال: حديث حسن)، سنن نسائي (119/2-120 ح875)
← پچھلی کتاب #39 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #41 →