شمائل ترمذی حدیث نمبر: 133
Shamail al-Tirmidhi 133
کتاب #22: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکیہ مبارک کا بیان
4: بَابُ مَا جَاءَ فِي تَكَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
تکیہ پر ٹیک لگانا تکبر کی علامت نہیں
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ عَلَى يَسَارِهِ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ إِسْرَائِيلَ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى فِيهِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَّا مَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ إِسْرَائِيلَ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں وکیع نے «علي يسارہ» کا لفظ ذکر نہیں کیا، اسی طرح بہت سے راویوں نے اسرائیل سے وکیع کی طرح یہ حدیث روایت کی ہے اور ہماری علم میں نہیں کہ اس حدیث میں «علي يسارہ» کا لفظ اسرائیل سے اسحاق بن منصور کے علاوہ کسی دوسرے راوی سے روایت کی ہو۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 133]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : سنن ابي داود: 4143 ، نیز دیکھئیے حدیث سابق: 129 SB تنبیہ: EB باب نمبر 21 میں استراحت کے لئے یا بیٹھے ہوئے ٹیک لگانے کا بیان ہے اور باب نمبر 22 کمزوری یا کسی سبب سے چلتے پھرتے وقت کسی کے ساتھ سہارا لینے کا تذکرہ ہے۔