📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشروبات کا بیان

کتاب #31 • کل احادیث: 2
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھنڈا میٹھا شربت پسند تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پینے کی چیزوں میں جو سب سے زیادہ پسند تھی وہ ٹھنڈا میٹھا شربت تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 203]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 1895)، السنن الكبري للنسائي (6844)، مسند احمد (38/6 ح24100)، مسند الحميدي (258) وسفيان بن عيينه صرح بالسماع عنده . یہ سند امام ابن شہاب زہری حمہ اللہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور مسند احمد (338/1) میں اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے، اس میں رجل مجہول ہے۔ اس روایت کے دیگر ضعیف و مردود شواہد کے لئے دیکھئے: [موسوعة حديثية 120/40۔ 121]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پیا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَى مَيْمُونَةَ فَجَاءَتْنَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَلَى شِمَالِهِ، فَقَالَ لِي: «الشَّرْبَةُ لَكَ، فَإِنْ شِئِتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا» فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ عَلَى سُؤْرِكَ أَحدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا، فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَبَنًا، فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ". ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ» قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارِكِ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَهَكَذَا رَوَى يُونُسُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا» قَالَ أَبُو عِيسَى: «إِنَّمَا أَسْنَدَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ» قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَمَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ خَالَةُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَخَالَةُ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، فَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ، وَالصَّحِيحُ عُمَرُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، تو وہ ہمارے لیے ایک برتن میں دودھ لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ نوش فرمایا، میں اس وقت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابن عباس! دودھ پینے کا تیرا حق ہے، اگر تو چاہے تو اپنی باری خالد کو دے دے۔“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے جوٹھے پر کسی کو بھی اپنے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کو اللہ تعالیٰ کھانا کھلائیں تو اس کو چاہیے کہ یوں کہے: «اللهم بارك لنا فيه واطعمنا خيرا منه»، اے اللہ! اس کھانے میں ہمارے لیے برکت فرما، اور ہمیں اس سے بہتر کھانا عطا فرما، اور جس کو اللہ تعالیٰ دودھ نصیب فرمائے اسے چاہیے کہ یوں کہے: «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه»، اے اللہ! اس دودھ میں ہمارے لیے برکت فرما، اور ہمیں اس سے زیادہ مرحمت فرما۔“ پھر راوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دودھ کے سوا اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو کھانے اور پینے کی جگہ کفایت کر سکے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 204]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 3455 وقال: حسن . . .)، سنن ابي داود (3730) یہ سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ علی بن زید بن جدعان جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ ➋ عمر بن ابی حرملہ مجہول (یعنی مجہول الحال) ہے۔ دیکھئے: (تقریب التہذیب: 4875)، سنن ابن ماجہ (3322) اور الصححیہ للالبانی (2320) میں اس کا ایک ضیعف شاہد بھی ہے، جس کے باوجود یہ روایت ضعیف ہی ہے۔ دیکھئے: انوار الصحیفہ (ص496)
← پچھلی کتاب #30 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #32 →