صحيح مسلم حدیث نمبر: 6730
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2646
📖 صحيح مسلم باب:46 حدیث نمبر : 8
Sahih Muslim 6730
کتاب #46: تقدیر کا بیان
1: باب كَيْفِيَّةِ الْخَلْقِ الآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ:
باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ؟ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ؟ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا، قَالَ: قَالَ الْمَلَكُ: أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَمَا الرِّزْقُ؟ فَمَا الْأَجَلُ؟ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ".
عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے یہ حدیث مرفوعا بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے ، وہ کہتا ہے : اے میرے رب! ( اب ) یہ نطفہ ہے ، اے میرے رب! ( اب ) یہ عقلہ ہے ، اے میرے رب! ( اب یہ مضغہ ہے ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی ( انسان کی صورت میں ) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا : فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح ( سب کچھ ) لکھ لیا جاتا ہے ۔