صحيح مسلم حدیث نمبر: 6628
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2604
Sahih Muslim 6628
کتاب #45: حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ، قَالَ: فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، وَقَالَ: اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، قَالَ، ثُمَّ قَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قُلْتُ لِأُمَيَّةَ: مَا حَطَأَنِي؟ قَالَ: قَفَدَنِي قَفْدَةً ".
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: ”جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: ”جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6628]