📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب (كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ) 🏷️ باب: باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 6627 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2603 📖 صحيح مسلم باب:45 حدیث نمبر : 124 Sahih Muslim 6627
کتاب #45: حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
25: باب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ أَهْلاً لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ، فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتْ: الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي، قَالَ: وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا، وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وقَالَ أَبُو مَعْنٍ: يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ.
زہیر بن حرب اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اور الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عمر بن یونس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسحق بن ابی طلحہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) ام انس بھی کہلاتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : "" تو وہی لڑکی ہے ، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر ( اس تیزی سے ) بڑی نہ ہو "" وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی ، یا کہا : اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" ام سلیم! کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری ( پالی ہوئی ) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا : "" یہ کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ کہتی ہے : آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو ، ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ، پھر فرمایا : "" ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے ، میں نے کہا : میں ایکبشر ہی ہوں ، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے ، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں ۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی ، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے ۔ "" ابو معن نے کہا : حدیث میں تینوں جگہ ( یتیمہ کے بجائے ) تصغیر کے ساتھ يتيمة ( چھوٹی سی یتیم بچی کا لفظ ) ہے ۔
صحيح مسلم • حدیث #6627
6625 6626 6627 6628 6629

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#6614 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ...
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر...
#6615 حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَ...
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور عیسی...
#6616 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ،...
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ...
#6617 وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ...
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ...
#6618 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَة...
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ