صحيح مسلم حدیث نمبر: 6127
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2362
Sahih Muslim 6127
کتاب #43: انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: " قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا، فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ، قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ، فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيٍ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ "، قَالَ عِكْرِمَةُ: أَوْ نَحْوَ هَذَا، قَالَ الْمَعْقِرِيُّ: فَنَفَضَتْ، وَلَمْ يَشُكَّ.
عبداللہ بن رومی یمامی، عباس بن عبدالعظیم عنبری اور احمد بن جعفر معقری نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں نضر بن محمد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابونجاشی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو (وہاں کے) لوگ کھجوروں میں قلم لگاتے تھے، وہ کہا کرتے تھے (کہ) وہ گابھہ لگاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہ کام کرتے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم لوگ یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔“ اس پر ان لوگوں نے (ایسا کرنا) چھوڑ دیا، تو ان کا پھل گر گیا یا (کہا) کم ہوا۔ کہا: لوگوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: ”میں ایک بشر ہی تو ہوں، جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں۔“ عکرمہ نے (شک انداز میں) کہا: یا اسی کے مانند (کچھ فرمایا۔) معقری نے شک نہیں کیا، انہوں نے کہا: تو ان کا پھل گر گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 6127]