صحيح مسلم حدیث نمبر: 6126
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2361
Sahih Muslim 6126
کتاب #43: انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى، فَيَلْقَحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا، قَالَ: فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ، فَتَرَكُوهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، فَلْيَصْنَعُوهُ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا، فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ ".
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر (کھجور کا بور) مادہ (کھجور) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ (درخت) ثمر آور ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے۔“ لوگوں کو یہ بات بتا دی گئی تو انہوں نے (گابھہ لگانے کا) یہ عمل ترک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ کام انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دار نہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 6126]