صحيح مسلم حدیث نمبر: 5631
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2153.5
Sahih Muslim 5631
کتاب #38: معاشرتی آداب کا بیان
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ: لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5631]