صحيح مسلم حدیث نمبر: 5626
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2153.01
📖 صحيح مسلم باب:38 حدیث نمبر : 41
Sahih Muslim 5626
کتاب #38: معاشرتی آداب کا بیان
7: باب الاِسْتِئْذَانِ:
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ.
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : اللہ کی قسم!ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے ، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انھوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں ، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انھوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا ، انھوں نے کہا : آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟میں نے کہا : میں آیا تھا ، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا ، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا ، اس لئے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" جب تم میں سے کوئی شخص تین باراجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا ۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کرکھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے ، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں توانھوں نے کہا : تم ان کے ساتھ جاؤ ( اور گواہی دو)