صحيح مسلم حدیث نمبر: 506
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 207
Sahih Muslim 506
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ، إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهْ "،
یزید بن زریع نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے، پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’وائے اس کی صبح (کی تباہی!)‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 506]