صحيح مسلم حدیث نمبر: 503
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 205
Sahih Muslim 503
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 503]