صحيح مسلم حدیث نمبر: 503
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 205
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 409
Sahih Muslim 503
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
89: باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ".
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ نازل ہوئی تو رسو ل ا للہﷺ نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا : ’’ اے محمد ( ﷺ ) کی بیٹی فاطمہ ! اے عبد المطلب کی بیٹی صفیہ ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ ( ہاں! ) میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگ لو ۔ ‘ ‘