صحيح مسلم حدیث نمبر: 4680
📖 صحيح مسلم باب:32 حدیث نمبر : 163
Sahih Muslim 4680
کتاب #32: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
47: باب غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ:
باب: عورتوں کا مردوں کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا، فَكَانَ مَعَهَا، فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْخِنْجَرُ؟، قَالَتْ: اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ "،
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر ( اپنے پاس رکھ ) لیا ، وہ ان کے ساتھ تھا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں ، ان کے پاس ایک خنجر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : یہ خنجر کیسا ہے؟ " انہوں نے کہا : میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے ، جنہیں ( فتح مکہ کے دن ) معافی دی گئی تھی ( حنین کے دن ) آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے ، انہیں قتل کروا دیجئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ام سلیم! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا ( ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا ) اور اس نے احسان فرمایا ( کہ ہمیں فتح عطا کر دی)