صحيح مسلم حدیث نمبر: 4679
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1808
Sahih Muslim 4679
کتاب #32: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (80) آدمی اسلحہ سے لیس ہو کر (مکہ کے قریب واقع) جبل تنعیم کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے اترے، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں مقیم تھے اور صلح کی بات چل رہی تھی۔) وہ دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لڑائی کے بغیر ہی پکڑ لیا اور ان کی جان بخشی کر دی (انہیں سزائے موت نہ دی)۔ اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں تمہیں ان پر غالب کر دینے کے بعد، ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 4679]