صحيح مسلم حدیث نمبر: 4582
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1759.2
Sahih Muslim 4582
کتاب #32: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : " أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ، إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ، فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ، فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ، وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترکے میں سے حصہ نکالیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے دیا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم نے جو چھوڑا وہ صدقہ ہو گا۔“ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس مال میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر، فدک اور مدینہ میں صدقے کی صورت میں چھوڑا تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہ کی اور کہا: میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے، مگر میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔ اگر میں نے آپ کے حکم میں سے کوئی چیز چھوڑی تو مجھے ڈر ہے کہ میں گمراہ ہو جاؤں گا۔ رہا آپ کا مدینہ والا صدقہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، اس پر (قبضے میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ ان پر غالب آ گئے، اور خیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روک لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا صدقہ ہے جو آپ کے ذمے آنے والے حقوق اور حوادث کے لیے تھا، ان دونوں کا معاملہ اسی کے سپرد رہے گا جو حکومت کا ذمہ دار ہو گا۔ کہا: وہ دونوں آج تک اسی حالت پر ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 4582]