📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 4580

Sahih Muslim Hadith 4580 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #32 📁 جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے (كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ) ← 🏷️ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 4580 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1759 Sahih Muslim 4580
کتاب #32: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
16: باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ».
🏷️ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا، الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ، لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ، لِأَبِي بَكْرٍ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا، فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا: أَصَبْتَ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ،
عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے اِن (عروہ) کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ورثے میں سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی تھیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ اور فدک میں بطور فے دیا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچتا تھا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اس مال میں سے کھاتا رہے گا۔“ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کی اس کیفیت میں بھی تبدیلی نہیں کروں گا جس پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا، اور میں اس میں اسی طریقے پر عمل کروں گا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کر دیا تو اس معاملے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہو گئیں، انہوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور ان سے بات چیت نہ کی حتی کہ وفات پا گئیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، جب فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع نہ دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کی توجہ تھی، جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے چہرے بدلے ہوئے پائے، اس پر انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح اور بیعت کرنی چاہی۔ انہوں نے ان (چھ) مہینوں کے دوران میں بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی اور نہ آئے۔۔ (ایسا) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آمد کو ناپسند کرتے ہوئے (کہا)۔۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان کے ہاں اکیلے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے کیا توقع ہے کہ وہ میرے ساتھ (کیا) کریں گے؟ اللہ کی قسم! میں ان کے پاس جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (خطبے اور) تشہد کے کلمات کہے، پھر کہا: ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت اور اللہ نے جو آپ کو عطا کیا ہے، اس کے معترف ہیں، ہم آپ سے اس خوبی اور بھلائی پر حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے، لیکن آپ نے امارت (قبول کر کے) ہم پر من مانی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے (ہم سے بھی مشورہ کیا جاتا)، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرتے رہے حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے اپنی قرابت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت نبھانا کہیں زیادہ محبوب ہے اور اس مال کی بنا پر میرے اور آپ لوگوں کے درمیان جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق سے نہیں ہٹا، اور میں نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں کرتے ہوئے دیکھا تھا مگر میں نے بالکل وہی کیا ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لیے آپ کے ساتھ (آج) پچھلے وقت کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو منبر پر چڑھے، کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہ جانے کا سبب اور ان کا وہ عذر بیان کیا جو انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا تھا، پھر استغفار کیا۔ (اس کے بعد) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلماتِ تشہد ادا کیے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ (کہا:) کہ انہوں نے جو کیا اس کا سبب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ بازی اور اللہ نے انہیں جو فضیلت دی ہے اس کا انکار نہ تھا، لیکن ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ تھا جس میں ہم پر من مانی کی گئی ہے، ہمیں اپنے دلوں میں اس پر دکھ محسوس ہوا۔ اس (گفتگو) پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا: آپ نے درست کہا ہے اور جب وہ پسندیدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 4580]
صحيح مسلم • حدیث #4580
4578 4579 4580 4581 4582

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4579 حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ...
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو نبی صلی اللہ ع...
#4581 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ...
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت...
#4582 وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَن...
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ...
#4583 حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَ...
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی...
#4584 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي ...
سفیان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 4584]
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ