صحيح مسلم حدیث نمبر: 4506
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1723.01
📖 صحيح مسلم باب:31 حدیث نمبر : 8
Sahih Muslim 4506
کتاب #31: کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو
1ق: باب مَعْرِفَةِ الْعِفَاصِ وَالْوِكَاءِ وَحُكْمِ ضَالَّةِ الْغَنَمِ وَالإِبِلِ
باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ " قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ، فَقَالا لِي: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، قَالَ: فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، قَالَ: فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا "، فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ،
(محمد بن جعفر ) غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لیے نکلے ، مجھے ایک کوڑا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا ، ان دونوں نے مجھ سے کہا : اسے رہنے دو ۔ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا ، اگر اس کا مالک آ گیا ( تو اسے دے دوں گا ) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا ۔ کہا : میں نے ان دونوں ( کی بات ماننے ) سے انکار کر دیا ۔ جب ہم اپنی جنگ سے واپس ہوئے ( تو ) میرے مقدور میں ہوا کہ میں نے حج کرنا ہے ، چنانچہ میں مدینہ آیا ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں کوڑے کے واقعے اور ان دونوں کی باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے ، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" سال بھر اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے ( دوسرا سال ) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے ( پھر سال بھر ) اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ، میں پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : "" ایک سال اس کی تشہیر کرو ۔ "" میں نے اس کی تشہیر کی تو مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان پاتا ۔ تو آپ نے فرمایا : "" اس کی تعداد ، اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھنا ، اس اگر اس مالک آ جائے ( تو اسے دے دینا ) ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لینا ۔ "" پھر میں نے اسے استعمال کیا ۔ ( شعبہ نے کہا : ) اس کے بعد میں انہیں ( سلمہ بن کہیل کو ) مکہ میں ملا تو انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ( حضرت اُبی رضی اللہ عنہ نے ) تین سال ( تشہیر کی ) یا ایک سال