صحيح مسلم حدیث نمبر: 4498
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1722.01
📖 صحيح مسلم باب:31 حدیث نمبر : 1
Sahih Muslim 4498
کتاب #31: کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو
1ق: باب مَعْرِفَةِ الْعِفَاصِ وَالْوِكَاءِ وَحُكْمِ ضَالَّةِ الْغَنَمِ وَالإِبِلِ
باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟، قَالَ: لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟، قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا "، قَالَ يَحْيَي: أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا.
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے ( کسی کی ) گری ، بھولی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے ڈھکنے/تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو ، پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ اس کا جو چاہو کرو ۔ "" اس نے کہا : گمشدہ بکری ( کا کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے ۔ "" اس نے پوچھا : تو گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ اس کی مشک اور اس کا موزہ اس کے ساتھ ہے ، وہ ( خود ہی ) پانی پر پہنچتا ہے اور درخت ( کے پتے ) کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے ۔ "" ( یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے میں نے عفاصها پڑھا تھا ۔ ( بعض روایات میں "" وكاءها "" ( اس کا بندھن ) ہے