صحيح مسلم حدیث نمبر: 421
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 166.1
Sahih Muslim 421
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ فَقَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، فَقَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ، وَشَعَرِهِ، شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ، وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا، حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ قَالُوا: هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ، فَقَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ، نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا ".
ابن ابی عدی نے داؤد سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان رات کے وقت سفر کیا، ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وادی ازرق ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جیسے میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں (آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ بتایا جو داؤد کو یاد نہیں رہا) موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دو انگلیاں اپنے (دونوں) کانوں میں ڈالی ہوئی ہیں، اس وادی سے گزرتے ہوئے، تلبیہ کے ساتھ، بلند آواز سے اللہ کے سامنے زاری کرتے جا رہے ہیں۔“ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک (اور) گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہرشیٰ یا لفت ہے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جیسے میں یونس علیہ السلام کو سرخ اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، ان کے بدن پر اونی جبہ ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، وہ تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“) [صحيح مسلم/حدیث: 421]