صحيح مسلم حدیث نمبر: 3501
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1365.06
📖 صحيح مسلم باب:16 حدیث نمبر : 104
Sahih Muslim 3501
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
14: باب فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا:
باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حدثنا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، حدثنا أَنَسٌ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: " فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فقَالَ: أَصْلِحِيهَا "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَح، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ "، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهَا قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعَنْا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ: صَفِيَّةُ خَلْفَهُ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فقَالَ: " لَمْ نُضَرَّ "، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت صفیہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں آ گئیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حصے کی ایک کنیز لینے کی اجازت دے کر غیر رسمی طور پر تقسیم کا آغاز فرما دیا تھا ۔ ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : ہم نے قیدیوں میں ان جیسی عورت نہیں دیکھی ۔ تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، اور ان کے بدلے میں جو انہوں نے چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ، پھر آپ نے اسے میری والدہ کے سپرد کیا اور فرمایا : " اسے بنا سنوار دو ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے حتیٰ کہ جب آپ نے اسے پشت کی طرف کر لیا ، ( خیبر پیچھے رہ گیا ) تو آپ نے پڑاؤ ڈالا ، پھر ان ( حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ) کے لیے خیمہ لگوایا ، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زادِ راہ سے زائد کچھ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے ۔ " کہا : اس پر کوئی آدمی زائد کھجوریں لے کر آنے لگا اور ( کوئی ) زائد ستو ، حتیٰ کہ لوگوں نے ان چیزوں سے ایک ڈھیر مخلوط کھانے ( حَیس ) کا بنا لیا ، پھر وہ اس حیس میں سے تناول کرنےلگے اور بارش کے پانی کے حوضوں سے جو ان کے قریب تھے پانی پینے لگے ۔ کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تھا ان ( صفیہ رضی اللہ عنہا ) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ ۔ کہا : اس کے بعد ہم چل پڑے ، جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں تو ہم شدتِ شوق سے اس کی طرف لپک پڑے ، ہم نے اپنی ساریاں اٹھا دیں ( تیز کر دیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری اٹھا دی ۔ کہا : صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا ، کہا : ( اچانک ) رسول اللہ کی سواری کو ٹھوکر لگی تو آپ زمین پر آ رہے اور وہ ( حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ) بھی زمین پر آ رہیں ، کہا : لوگوں میں سے کوئی بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ان کی طرف ، کہا : حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے آگے پردہ کیا ، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : " ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ " پھر ہم مدینہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ کی ازواج کی باندیاں باہر نکل آئیں ، وہ ایک دوسری کو وہ ( صفیہ رضی اللہ عنہا ) دکھا رہی تھیں ، اور ان کے گرنے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھیں