صحيح مسلم حدیث نمبر: 3497
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1365.03
📖 صحيح مسلم باب:16 حدیث نمبر : 99
Sahih Muslim 3497
کتاب #16: نکاح کے احکام و مسائل
14: باب فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا:
باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ "، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، فقَالَ: " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً "، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: " ادْعُوهُ بِهَا "، قَالَ: فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا "، قَالَ: وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: " نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا "، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فقَالَ: " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ، فَلْيَجِئْ بِهِ "، قَالَ: وَبَسَطَ نِطَعًا، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے جہاد کیا خیبر پر او رہم لوگوں نے وہاں نماز پڑھی صبح کی بہت اندھریے میں اور سوار ہوئے نبی ﷺ او رسوار ہوئے ابوطلحہٰ ؓ اور میں ردیف تھا ابوطلحہ کا اور روانہ ہوئے نبی ﷺ گلیوں میں خیبر کی اور میرا زانو نبیﷺ کے ران سے لگ لگ جاتا تھا اور تہبند رسول اﷲ ﷺ کی آپ کی ران سے کھسک گئی تھی او رمیں دیکھتا سفیدی آپ کی ران کی پھر جب شہر کے اندر گئے آپ نے فرمایا اﷲ اکبر خراب ہوا خیبر ہم جب اترتے ہیں کسی قوم کے انگن میں تو برا ہوتا ہے حال ڈرائے گئے لوگوں کا ۔ اس آیت کو آپ نے تین بار پڑھا یعنی انا اذا نزلنا بساحۃ قوم سے اخیر تک اور اتنے میں وہاں کے لوگ اپنے اپنے کاموں میں نکلے اور انہوں نے کہا کہ محمد ﷺ آچکے ۔ اور عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آگیا ۔ کہا راوی نے کہ غرض ہم نے لے لیا خیبر کو جبراً قہراً اور قیدی لوگ جمع کیے گئے اور دحیہ آئے اور عرص کی کہ یا رسول اﷲؐ! ایک لونڈی مجھے عنایت کیجیے ان قیدیوںمیںسے ۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ ایک لونڈی لے لو ۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا اور ایک شخص نے آکے کہا کہ اے نبی اﷲ تعالیٰ کے آپ نے دحیہ کو حیی کی بیٹی دیدی جو سردار ہے بنی قریظہ اور بنی نضیر کا اور وہ کسی کے لائق نہیں سوا آپ کے تو فرمایا کہ بلاؤ ان کو مع اس لونڈی کے ۔ کہا راوی نے کہ پھر وہ اسے لے کر آئے پھر جب آپ نے اس کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا کہ تم کوئی اور لونڈی لے لو قیدیوں میں سے اس کے سوا ۔ کہا راوی نے کہ پھر آپ نے آزاد کیا صفیہؓ کو اور ان سے نکاح کرلیا سو ثابت نے ان سے کہا کہ اے ابوحمزہ! ان کا مہر کیا باندھا انہوں نے؟ کہا یہی مرہ تھا کہ ان کو آزاد کردیا اور نکاح کرلیا یہاں تک کہ پھر جب وہ را میں تھے تو سنگار کردیا ان کا ام سلیمؓ نے اور پیش کردیا آپ پر ان کو رات میں اور صبح کو رسول اﷲﷺ نوشہ بنے ہوئے تھے ۔ پھر فرمایا اپ نے جس کے پاس جو کچھ ہو ( یعنی کھانے کی قسم سے ) وہ لائے او رایک دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا اور کوئی اقط لانے لگا ( دہی سکھا کر بناتے ہیں ) اور کوئی کھجور او رکوئی گھی ان سب کو توڑ تاڑ کر خوب ملایا اور یہ ولیمہ ہوا رسول اﷲ ﷺ کا ۔