صحيح مسلم حدیث نمبر: 330
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 126
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 237
Sahih Muslim 330
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
57: باب بَيَانِ تَجَاوُزِ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِّرَ وَبَيَانِ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفْ إِلَّا مَا يُطَاقُ وَبَيَانِ حُكْمِ الْهَمِّ بِالْحَسَنَةِ وَبِالسَّيِّئَةِ
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا "، قَالَ: فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ.
حضرت ابن عبا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ، اس کو ظاہر کر دیا چھپاؤ ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز ( شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا ) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی ۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : ہم نے سنا او رہم نے اطاعت کی او رہم نے تسلیم کیا ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ( وبال ) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا ) جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے ۔ ‘ ‘ فرمایا : میں ایسا کر دیا ۔ ’’ہمیں بخش دے او رہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔