صحيح مسلم حدیث نمبر: 329
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 125
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 236
Sahih Muslim 329
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
57: باب بَيَانِ تَجَاوُزِ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِّرَ وَبَيَانِ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفْ إِلَّا مَا يُطَاقُ وَبَيَانِ حُكْمِ الْهَمِّ بِالْحَسَنَةِ وَبِالسَّيِّئَةِ
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالْجِهَادُ، وَالصَّدَقَةُ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ، نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ! بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے رب ! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ ‘ ‘ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں ، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ’’رسو ل اللہ ﷺ اس ( ہدایت ) پر ایمان لائے جوان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی ۔ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ، ( اورکہا : ) ہم ( ایمان لانے میں ) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ، اے ہمارے رب !تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ جب انہوں نے یہ ( مان کر اس پر عمل ) کیا تو اللہ عزوجل نےاس آیت ( کے ابتدائی معنی ) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ اللہ کسی شخص پر اس کی طاق سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اس نے جو ( نیکی ) کمائی اورجو ( برائی ) کمائی ( اس کا وبال ) اسی پر ہے ، اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔ ( انہوں نے کہا : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جوہم سے پہلے ( گزر چکے ) ہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں! ( پھر کہا : ) ’’اے ہمارے رب ! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ! ( پھر کہا : ) ’’ او رہم سےدرگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔