📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 2256

Sahih Muslim Hadith 2256 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #11 📁 جنازے کے احکام و مسائل (كِتَاب الْجَنَائِزِ) ← 🏷️ باب: قبر میں داخل کرتے وقت کیا کہنا چاہئیے اور قبر والوں کے لئے دعا کا بیان۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 2256 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 974.1 Sahih Muslim 2256
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
35: باب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لأَهْلِهَا:
🏷️ باب: قبر میں داخل کرتے وقت کیا کہنا چاہئیے اور قبر والوں کے لئے دعا کا بیان۔
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، فَقَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي؟، قُلْنَا: بَلَى. ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي؟، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ: مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً؟" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ، قَالَ:" لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي، قُلْتُ: نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ: أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ"، قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ، وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا والمُستَأخِرينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ".
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث سنائی اور کہا: ابن جریج نے عبداللہ بن کثیر بن مطلب سے روایت کی، انہوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب (المطلبی) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہی تھیں، انہوں نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔۔۔ اور حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، کہا: قریش کے ایک فرد عبداللہ نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کی کہ ایک دن انہوں نے کہا: ”کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ کہا: ہم نے سمجھا کہ ان کی مراد اپنی اس ماں سے ہے جس نے انہیں جنم دیا (لیکن انہوں نے) کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنی طرف سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں! کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: (ایک دفعہ) جب میری (باری کی) رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے، آپ (مسجد سے) لوٹے، اپنی چادر (سرہانے) رکھی، اپنے دونوں جوتے اتار کر اپنے دونوں پاؤں کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھایا، پھر لیٹ گئے۔ آپ نے صرف اتنی دیر انتظار کیا کہ آپ نے خیال کیا میں سو گئی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا، نکلے، پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ (یہ دیکھ کر) میں نے بھی اپنی قمیص سر سے گزاری (جلدی سے پہنی)، اپنا دوپٹا اوڑھا اور اپنی آزار (کمر پر) باندھی، پھر آپ کے پیچھے چل پڑی حتیٰ کہ آپ بقیع (کے قبرستان میں) پہنچے اور کھڑے ہو گئے اور آپ لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے، پھر آپ پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی، آپ تیز ہو گئے تو میں بھی تیز ہو گئی، آپ تیز تر ہو گئے تو میں بھی تیز تر ہو گئی۔ آپ دوڑ کر چلے تو میں نے بھی دوڑنا شروع کر دیا۔ میں آپ سے آگے نکل آئی اور گھر میں داخل ہو گئی۔ جونہی میں لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہو گئے اور فرمایا: ”عائشہ! تمہیں کیا ہوا، کانپ رہی ہو؟ سانس چڑھی ہوئی ہے۔“ میں نے کہا: کوئی بات نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے بتاؤ گی یا پھر وہ مجھے بتائے گا جو لطیف وخبیر ہے (باریک بین ہے اور انتہائی باخبر) ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اور میں نے (پوری بات) آپ کو بتا دی۔ آپ نے فرمایا: ”تو وہ سیاہ (ہیولا) جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا، تم تھیں؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے میرے سینے کو زور سے دھکیلا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ تم پر زیادتی کرے گا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا تھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے (آکر) مجھے آواز دی اور اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھا، میں نے ان کو جواب دیا تو میں نے بھی تم سے اس کو مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس اندر نہیں آسکتے تھے، تم کپڑے اتار چکیں تھیں اور میں نے خیال کیا کہ تم سو چکی ہو تو میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ تم (اکیلی) وحشت محسوس کرو گی۔ تو انہوں (جبرئیل علیہ السلام) نے کہا: آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟“ آپ نے فرمایا: ”تم کہو: ’مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان ٹھکانوں میں رہنے والوں پر سلامتی ہو، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے، اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2256]
صحيح مسلم • حدیث #2256
2254 2255 2256 2257 2258

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2255 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ...
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے...
#2257 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ...
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں محمد بن عبداللہ اسدی نے سفیان سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ