صحيح مسلم حدیث نمبر: 2255
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 974
Sahih Muslim 2255
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ، غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ "، وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَتَاكُمْ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ اسماعیل بن جعفر نے شریک سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا:۔۔۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع (کے قبرستان میں) تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے! تم پر اللہ کی سلامتی ہو، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا، وہ تم تک پہنچ گیا۔ تم کو (قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد (میں رہنے) والوں کو بخش دے۔“ قتیبہ نے (اپنی روایت) میں وآتاكم (تم تک پہنچ گیا) نہیں کہا۔۔۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2255]