صحيح مسلم حدیث نمبر: 2065
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 892.4
Sahih Muslim 2065
کتاب #8: نماز عیدین کے احکام و مسائل
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعْهُمَا "، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ "، حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: " حَسْبُكِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاذْهَبِي ".
محمد بن عبدالرحمان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے اشعار بلند آواز سے سنا رہی تھیں۔ آپ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ (دوسری سمت) پھیر لیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو انہوں نے مجھے سرزنش کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آواز؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”انہیں چھوڑیئے۔“ جب ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی توجہ ہٹی تو میں نے ان کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ اور عید کا ایک دن تھا، کالے لوگ ڈھالوں اور بھالوں کے کرتب دکھا رہے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی یا آپ نے خود ہی فرمایا: ”دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر (لگ رہا) تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اے ارفدہ کے بیٹو! (اپنا مظاہرہ) جاری رکھو۔“ حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”تو چلی جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2065]