صحيح مسلم حدیث نمبر: 2061
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 892
Sahih Muslim 2061
کتاب #8: نماز عیدین کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَار، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْر: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہے تھے، انہیں گا رہی تھیں۔ کہا: وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز (بلند ہو رہی) ہے؟ اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! ہر قوم کے لیے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2061]