صحيح مسلم حدیث نمبر: 1988
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 857.1
Sahih Muslim 1988
کتاب #7: جمعہ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كَريْب ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ".
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعے کے لیے آیا، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور تین دن زائد کے بھی۔ اور جو (بلا وجہ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا (ان سے کھیلتا رہا)، اس نے لغو اور فضول کام کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1988]