صحيح مسلم حدیث نمبر: 1986
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 850.3
Sahih Muslim 1986
کتاب #7: جمعہ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ، يَكْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ، ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَحَضَرُوا الذِّكْرَ ".
سہیل کے والد ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ (آخر میں) انڈے جیسے چھوٹے (صدقے) کی مثال دی۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو (اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں اور (فرشتے) ذکر و نصیحت (سننے) کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1986]