صحيح مسلم حدیث نمبر: 1549
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 677.4
Sahih Muslim 1549
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ ".
ابومعاویہ نے عاصم سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (انس رضی اللہ عنہ) سے قنوت کے بارے میں پوچھا: رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ کہا: میں نے عرض کی: بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک، ان لوگوں کے خلاف بددعا فرماتے رہے جنہوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنہیں قراء (قرآن پڑھنے والے) کہا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1549]