صحيح مسلم حدیث نمبر: 1540
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 675.01
📖 صحيح مسلم باب:5 حدیث نمبر : 373
Sahih Muslim 1540
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
54: باب اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلاَةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ:
باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ بَلَغَنَا، أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ".
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور ( رکوع میں جانے کے لیے ) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ، اے ہمارے رب! اور ٰحمدتیرے ہی لیے ہے ) کہتے ، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے : ‘ ‘ اے اللہ!ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنھیں ( کافروں نے ) کمزور پایا ، نجات عطا فرما ۔ اے اللہ!قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر ، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر د ۔ اے اللہ! الحیان ، رعل ، ذکوان اور عصیہ پر ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، لعنت نازل کر ۔ ’’پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری : ‘ ‘ آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں ، ( اللہ تعالیٰ ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے ، چاہے ان کو عذاب دے کہ و ہ یقینا ظلم کرنے والے ہیں’’ تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ۔