صحيح مسلم حدیث نمبر: 1501
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 660
Sahih Muslim 1501
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَ: " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ، فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ؟ قَالَ: جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا، آپ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔“ (فرض) نماز کے وقت کے بغیر، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا۔ پھر آپ نے ہمارے، سب گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی: اللہ کے رسول! (یہ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے، اللہ سے اس کے لیے (خصوصی) دعا کریں۔ کہا: آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لیے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے ان میں برکت ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1501]