صحيح مسلم حدیث نمبر: 1500
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 659
Sahih Muslim 1500
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَقُومُ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ".
ابوالتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے۔ بسا اوقات آپ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا، پھر آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی، اسے جھاڑا جاتا، پھر اس پر پانی چھڑکا جاتا، پھر آپ امامت فرماتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ کہا: ان کی چٹائی کجھور کے پتوں کی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1500]