صحيح مسلم حدیث نمبر: 1447
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 639.1
Sahih Muslim 1447
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ، يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے نافع نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی بنا پر) اس (عشاء کی نماز) سے مشغول ہو گئے، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1447]