صحيح مسلم حدیث نمبر: 1443
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 638.01
📖 صحيح مسلم باب:5 حدیث نمبر : 276
Sahih Muslim 1443
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
39: باب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ "، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں)