صحيح مسلم حدیث نمبر: 120
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 18.03
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 28
Sahih Muslim 120
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
6: باب الْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَائِعِ الدِّينِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ وَالسُّؤَالِ عَنْهُ وَحِفْظِهِ وَتَبْلِيغِهِ مَنْ لَمْ يَبْلُغْهُ
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّأَخْبَرَهُ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ؟ فَقَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى ".
محمد بن بکار بصری ‘ عاصم بن جریج ‘ محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ ابن جریج ‘ ابو قرعہ ‘ ابو نضرہ ‘ ابو سعید حدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد قیس کا وفدرسول اللہﷺ کی خمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے بنیﷺہم آپﷺپر قربان کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟آپﷺنے فرمایا لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرولوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺلکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟آپﷺ نے فر مایا لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرواور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرومگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا ۃ جاتا ہو