صحيح مسلم حدیث نمبر: 119
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 18.1
Sahih Muslim 119
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ، وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ: وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ، وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيد أَوَ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ.
ابن ابی عدی نے سعید کے حوالے سے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالقیس کے وفد سے ملاقات کرنے والے ایک سے زائد افراد نے بتایا اور ان میں سے ابونضرہ کا نام لیا (ابونضرہ نے) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر ابن عُلیہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اس میں ملی جلی کھجوریں، (عام) کھجوریں اور پانی ڈالتے ہو۔“ (اور ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں) یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ سعید نے کہا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ کھجوریں ڈالتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 119]