The Prophet (ﷺ) went towards Al-Baqi (the graveyard at Medina) on the day of Id-ul-Adha and offered a two-rak`at prayer (of `Id-ul-Adha) and then faced us and said, "On this day of ours, our first act of worship is the offering of prayer and then we will return and slaughter the sacrifice, and whoever does this concords with our Sunna; and whoever slaughtered his sacrifice before that (i.e. before the prayer) then that was a thing which he prepared earlier for his family and it would not be considered as a Nusuk (sacrifice.)" A man stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered (the animal before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (p.b.u.h) said to him, "Slaughter it. But a similar sacrifice will not be sufficient for anybody else after you."
📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗
صحيح بخاري
Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں
(كِتَاب الْعِيدَيْنِ)
←
🏷️ باب: باب: امام عید کے خطبے میں لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 976
Sahih al-Bukhari 976
کتاب #13: کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں
17: بَابُ اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ النَّاسَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ:
باب: امام عید کے خطبے میں لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر (نماز اور خطبے سے) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/حدیث: 976]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Al-Bara':
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث | / تلاش | r بے ترتیب حدیث | p پرنٹ