`Amr bin Taghlib said, "Some property was given to the Prophet (ﷺ) and he gave it to some people and withheld it from some others. Then he came to know that they (the latter) were dissatisfied. So the Prophet said, 'I give to one man and leave (do not give) another, and the one to whom I do not give is dearer to me than the one to whom I give. I give to some people because of the impatience and discontent present in their hearts, and leave other people because of the content and goodness Allah has bestowed on them, and one of them is `Amr bin Taghlib." `Amr bin Taghlib said, "The sentence which Allah's Messenger (ﷺ) said in my favor is dearer to me than the possession of nice red camels."
📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗
صحيح بخاري
Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
(كِتَاب التَّوْحِيدِ)
←
🏷️ باب: باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المعارج میں) فرمان کہ ”آدم زاد دل کا کچا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر کوئی مصیبت آئی تو آہ و زاری کرنے لگ جاتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے“۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 7535
Sahih al-Bukhari 7535
کتاب #98: کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
49: بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المعارج میں) فرمان کہ ”آدم زاد دل کا کچا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر کوئی مصیبت آئی تو آہ و زاری کرنے لگ جاتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ، فَأَعْطَى قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا، فَقَالَ: إِنِّي أُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَقَالَ عَمْرٌو: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا اور آپ نے اس میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا اور جسے نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جسے دیتا ہوں۔ میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور بے چینی ہے اور دوسرے لوگوں پر اعتماد کرتا ہوں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو بے نیازی اور بھلائی عطا فرمائی ہے۔ انہیں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمہ کے مقابلہ میں مجھے لال لال اونٹ ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ [صحيح البخاري/حدیث: 7535]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Al-Hasan:
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث | / تلاش | r بے ترتیب حدیث | p پرنٹ