صحيح بخاري حدیث نمبر: 7243
Sahih al-Bukhari 7243
کتاب #95: کتاب: نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُسدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" سَأَلْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الجَدْرِ، أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يَدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟، قَالَ: إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟، قَالَ: فَعَلَ ذَاكِ قَوْمُكِ ليُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُم بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخُلَ الْجَدْرِ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أَلْصِقْ بَابَهُ فِي الْأَرْضِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، کہا ہم سے اشعث نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (خانہ کعبہ کے) حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ ہے؟ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیوں ان لوگوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی ہو گئی تھی، میں نے کہا کہ یہ خانہ کعبہ کا دروازہ اونچائی پر کیوں ہے؟ فرمایا کہ یہ اس لیے انہوں نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں میں اس سے انکار پیدا ہو گا تو میں حطیم کو بھی خانہ کعبہ میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 7243]