صحيح بخاري حدیث نمبر: 7242
Sahih al-Bukhari 7242
کتاب #95: کتاب: نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں
9: بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ اللَّوْ:
باب: لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيُّ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ المُسَيَّب أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ، قَالُوا: فِإِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: أيُّكُمْ مِثْلِي؟، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّل لَهُمْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم کو زہری نے خبر دی اور لیث نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب (زہری) نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کون مجھ جیسا ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر (وصال کا) روزہ رکھا، پھر لوگوں نے (عید کا) چاند دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ کرنے کے لیے ایسا فرمایا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 7242]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Wisal. The people said (to him), "But you fast Al-`Wisal," He said, "Who among you is like me? When I sleep (at night), my Lord makes me eat and drink. But when the people refused to give up Al-Wisal, he fasted Al-Wisal along with them for two days and then they saw the crescent whereupon the Prophet (ﷺ) said, "If the crescent had not appeared I would have fasted for a longer period," as if he intended to punish them herewith.