صحيح بخاري حدیث نمبر: 5598
Sahih al-Bukhari 5598
کتاب #74: کتاب: مشروبات کے بیان میں
10: بَابُ الْبَاذَقِ، وَمَنْ نَهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ مِنَ الأَشْرِبَةِ:
باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَاذَقَ، " فَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ"، قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، قَالَ: لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ، إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوالجویریہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ «باذق» تو حلال و طیب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام خبیث ہے (نہ کہ حلال و طیب)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5598]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Al-Juwairiyya:
I asked Ibn `Abbas about Al-Badhaq. He said, "Muhammad prohibited alcoholic drinks before It was called Al-Badhaq (by saying), 'Any drink that intoxicates is unlawful.' I said, 'What about good lawful drinks?' He said,'Apart from what is lawful and good, all other things are unlawful and not good (unclean Al-Khabith).