صحيح بخاري حدیث نمبر: 5291
Sahih al-Bukhari 5291
کتاب #68: کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
22: بَابُ حُكْمِ الْمَفْقُودِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ:
باب: جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا۔
وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ. وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَيْ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے اسماعیل نے بیان کہا کہ ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے، اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے، اور عثمان، علی، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5291]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Ibn `Umar added: "When the period of four months has expired, the husband should be put in prison so that he should divorce his wife, but the divorce does not occur unless the husband himself declares it. This has been mentioned by `Uthman, `Ali, Abu Ad-Darda, `Aisha and twelve other companions of the Prophet (ﷺ) ."